میری کہانی ، میری زبانی حصہ 1




کبھی کبھی انسان خود کو بدلنا چاہتا ہے، اپنے رویّے میں نرمی لانا چاہتا ہے، پرانی رنجشیں بھلا کر دوبارہ بات شروع کرنا چاہتا ہے؛ لیکن افسوس کہ بعض لوگ اسے بدلنے کا موقع ہی نہیں دیتے۔ وہ چاہتے ہیں کہ انسان ہمیشہ ویسا ہی رہے جیسا وہ برسوں پہلے تھا۔

کچھ عرصے بعد میں نے ایک شخص کو، جس سے کسی رنجش کی وجہ سے کافی عرصے سے بات چیت بند تھی، صرف خیریت دریافت کرنے کے لیے پیغام کیا۔ سلام کیا تو جواب آیا: ’’کون؟‘‘ میں نے اپنا تعارف کروایا کہ ’’میں سہیل خان ہوں۔‘‘ پھر پوچھا گیا: ’’میسج کرنے کی کوئی وجہ؟‘‘ میں نے کہا: ’’نہیں، بس ویسے ہی خیریت معلوم کرنے کے لیے۔‘‘ اس کے بعد جب کوئی جواب نہیں آیا تو میں نے ’’خدا حافظ‘‘ کہہ کر بات ختم کر دی۔

اس واقعے کو بیان کرنے کا مقصد کسی کی شکایت کرنا نہیں، بلکہ صرف ایک بات سمجھانا ہے کہ **ہر انسان کو بدلنے کا حق اور موقع ملنا چاہیے۔**

کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان اپنی غلطی محسوس کر لیتا ہے، کبھی دل میں احساس پیدا ہو جاتا ہے، کبھی وہ اپنی انا کو ایک طرف رکھ کر پہل کرتا ہے۔ لیکن اگر سامنے والا پہلے ہی یہ طے کر لے کہ ’’یہ ضرور کسی مطلب سے آیا ہے‘‘ تو پھر اصلاح، صلح اور تعلق کی گنجائش کہاں باقی رہ جاتی ہے؟

اگر کوئی شخص برسوں بعد خود چل کر آپ کو پیغام کرتا ہے تو کم از کم اتنا تو سوچنا چاہیے کہ آخر کوئی وجہ تو ہوگی۔ ممکن ہے وہ اپنی غلطی محسوس کر چکا ہو، ممکن ہے وہ پرانی باتیں ختم کرنا چاہتا ہو، ممکن ہے وہ صرف خیریت پوچھنا چاہتا ہو۔ ہر پہل کے پیچھے کوئی مطلب تلاش کرنا ضروری نہیں۔

اور پھر عجیب بات یہ ہے کہ  اگر کوئی اپنی غلطی مان لے تو بھی اسے کمزور سمجھ لیا جاتا ہے، اور اگر کوئی تعلق بہتر بنانے کے لیے پہل کرے تو بھی اس کے ارادوں پر سوال اٹھا دیے جاتے ہیں۔

نہیں!

کبھی کبھی جھک جانا شکست نہیں بلکہ انسان کے اندر پیدا ہونے والے احساس، پختگی اور بڑے پن کی علامت ہوتا ہے۔

رشتے ہمیشہ اس لیے نہیں ٹوٹتے کہ محبت ختم ہو گئی؛ بعض اوقات صرف انا، غلط فہمیاں اور ’’میں کیوں جھکوں؟‘‘ کا رویہ انہیں ختم کر دیتا ہے۔

اس لیے اگر کبھی کوئی شخص اپنی انا ایک طرف رکھ کر آپ کی طرف قدم بڑھائے تو کم از کم اس قدم کی قدر ضرور کیجیے۔ ممکن ہے وہ شخص پہلے جیسا نہ رہا ہو۔ ممکن ہے وہ واقعی بدل چکا ہو۔

اور شاید ہمیں بھی کبھی کبھی یہ سوچنا چاہیے کہ **ہر بار دوسرے کو جھکانے کے بجائے، ایک بار خود بھی جھک کر دیکھ لیا جائے۔**

کیونکہ آخر میں ہم سب انسان ہیں، کسی سے کم یا زیادہ نہیں۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

Darul Uloom deoband ke imtihan ke parche | دار العلوم دیوبند کے امتحان کے پرچے

Imtihan ki taiyari ke liye note | امتحان کی تیاری کے لیے نوٹ

دار العلوم دیوبند کے داخلہ امتحان کے پرچه براۓ دورہ حدیث شریف | darul uloom deoband ke imtihan ke parche

دار العلوم دیوبند کے داخلہ امتحان کے پرچه سال ہفتم عربی | darul uloom deoband ke imtihan ke parche